New role of patwaris in punjab / نئے پٹواریوں کی بھرتیاں / نیا نظام لایا جا رہا ہے۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم
03-05-21
پچلے چند ہفتوں سے مختلف اضلاع سے پٹواری بھرتی کے اشتہارات آ رہے ہیں ، اس سے قبل حکومت کا یہ ایجنڈا تھا کہ پٹواری سسٹم کو ختم کرنا ہے، لیکن اب حکومت سینکڑوں کی تعداد میں نئے پٹواری بھرتی کر رہی ہے، ایسا کیوں کیا جا رہا ہے، تو ان بھرتیوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ دیہاتوں میں "دیہی مراکز مال" کے نام سے مرکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ پہلے بھی دیہاتوں میں پٹواری صاحبان کے دفاتر موجود ہیں فرق یہ ہے کہ اب ان دفاتر کو ڈیجیٹلائیز کر دیا جاۓ گا پٹواری صاحبان کو لیپ ٹاپ/کمپیوٹرز کی سہولت دی جاۓ گی۔ اور انہیں اراضی ریکارڈ سنٹر کے ڈیٹا تک رسائی ہو گی۔ اراضی ریکارڈ سنٹر سے کمپیوٹرائزڈ فرد دیا جاتا ہے، اور اب پٹواری صاحبان دیہی مراکز مال سے کمپیوٹرائزڈ فرد جاری کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ انتقلات کی کاپیاں جو کہ اس سے قبل کمپیوٹر سنٹرز سے جاری کی جاتی ہیں ان کا ریکارڈ اب انہی پٹواری صاحبان کے مراکز سے وصول کیا جا سکے گا۔ اس سے قبل کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کمپیوٹر سنٹر سے حاصل کیا جاتا ہے اور پرانے ریکارڈ کے لیۓ پٹواری صاحبان کی خدمات لی جاتی ہیں لیکن اب اس نئے نظام کے تحت دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ انہی پٹواری صاحبان کے پاس جائیں گے اور مینول کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ بھی وہی سے حاصل کریں گے۔ انہی مراکز سے کمپیوٹرائزد فرد بھی جاری کیا جائے گا۔ (ڈان نیوز) ممبر بورڈ آف ریوینیو کے مطابق اس نئے نظام کو لانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ پٹواری نظام انتہائی پیچیدہ ہے یہاں تک کہ وکلاء صاحبان کو بھی اسے سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے، اراضی ریکارڈ سنٹر کا عملہ کمپیوٹر کے کام کو جانتا ہے لیکن اس پٹوار نظام اور قانون کو نہیں سمجھتا اس وجہ سے کافی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس مسئلے کو زیر غور لاتے ہوۓ یہ طے پایا کہ پٹواری نظام کو ختم نہیں کیا جا سکتا لہٰذا اس نظام کو ختم کرنے کی بجاۓ اسے ماڈرن کرنے کا فیصلہ کیا گیا ھے۔ اس کام کے لئے پٹواری صاحبان کو کمپیوٹرز کی سہولت فراہم کی جائے گی اور انکے لیے مختلف ٹریننگز کا انعقاد بھی کیا جاۓ گا تا کہ وہ ایک ہی پلیٹ فارم سے مینول ریکارڈ کے ساتھ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ بھی جاری کر سکیں۔ اس نظام کا فائدہ یہ ہے کہ مختلف دیہاتوں میں ان مراکز کے بننے سے ورک لوڈ تقسیم ہو جاۓ گا جو کام اس نظام سے قبل تحصیل کے واحد اراضی ریکارڈ سنٹر سے انجام دیا جاتا ہے۔ اس نظام کے بعد کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ ان مراکز سے حاصل کیا جا سکے گا۔ (ڈان نیوز) کے مطابق اس نظام کے آغاز کے لئے ضلح گجرات میں مختلف دیہات میں بارہ (12) مراکز قائم کیۓ گۓ ہیں ۔ان مراکز میں پٹواری صاحبان کو کمپیوٹرز کی سہولت دے دی گئ ہے اور باقاعدہ کام کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہاں سے کامیابی کے بعد اس نظام کا قیام پنجاب کے تمام اضلاع میں کیا جاۓ گا امید کرتے ہیں کہ ان مراکز کے قیام سے سسٹم میں بہتری آۓ گی۔ اس کے علاوہ اراضی ریکارڈ سنٹر جو کہ پہلے سے موجود ہیں وہاں پٹواری صاحبان کوعملہ کی مدد کے لیے بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں